اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی مجلسِ اعلیٰ اسلامی شیعیان کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے لبنان میں بینک صادرات ایران کے منتظمین کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ وفد نے انہیں لبنان کے مرکزی بینک کی جانب سے ایرانی بینک کا اجازت نامہ منسوخ کرنے اور ملک میں اس کی شاخیں بند کرنے کے فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا اور اس کے مالی و انسانی اثرات سے بھی خبردار کیا۔
امریکی درخواست پر اجازت نامہ منسوخ
وفد کے ارکان نے بتایا کہ لبنان کے مرکزی بینک نے ملک کے بینکاری نظام کے تحفظ کا جواز پیش کرتے ہوئے اور امریکہ کی درخواست پر بینک صادرات ایران کا اجازت نامہ منسوخ کیا ہے۔
وفد نے خبردار کیا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے لبنان کے 35 خاندانوں کے بے روزگار ہونے اور ان کے روزگار کا ذریعہ چھن جانے کا خطرہ ہے، جبکہ اس سے صارفین کی جمع شدہ رقوم بھی متاثر ہوں گی۔
وفد کے ارکان نے اس بینک کی سابقہ خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بینک صادرات ایران واحد بینک تھا جس نے ماضی میں لبنانی کھاتہ داروں کی جمع شدہ رقوم انہیں واپس کی تھیں۔
الخطیب: لبنان کے مرکزی بینک کا فیصلہ قابل قبول نہیں
شیخ علی الخطیب نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے لبنانی حکام کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان امریکہ سے بھی بڑھ کر اس کے احکامات پر عمل درآمد کر رہا ہے، جبکہ یورپی ممالک نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
الخطیب نے مزید کہا کہ بینک کا اجازت نامہ منسوخ کرنے اور اسے بند کرنے کے بجائے عارضی طور پر اس کی سرگرمیاں معطل کی جا سکتی تھیں اور حتمی فیصلے سے پہلے اس کے نتائج کا جائزہ لیا جا سکتا تھا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ بینک بند کرکے لبنانی خاندانوں کو بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے دوچار کیا جائے اور کھاتہ داروں کی رقوم بھی خطرے میں پڑ جائیں۔
آخر میں انہوں نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو واپس لیں اور ایران کے مسافر بردار طیاروں کی لبنان آمد پر پابندی سمیت دیگر فیصلوں سے بھی پیچھے ہٹیں۔
آپ کا تبصرہ